حدیث قدسی کی مختصر تعریف: مثال اور کتاب کا تعارف

حدیث قدسی (جسے حدیث قدسی بھی لکھا جاتا ہے) اسلام میں حضرت محمد ﷺ سے منسوب ایک قسم کی احادیث (اقوال، افعال، اور تعلیمات) کا نام ہے۔ دیگر احادیث کے برعکس، جنہیں صحابہ کرام کی طرف سے ریکارڈ کردہ نبی کریم ﷺ کے اقوال اور افعال سمجھا جاتا ہے، حدیث قدسی کو الہامی وحی مانا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے براہ راست آپ ﷺ پر نازل فرمائی تھی۔

اسلام میں حدیث قدسی کو خصوصی اہمیت اور فضیلت حاصل ہے، کیونکہ انہیں خدا کی طرف سے براہ راست وحی سمجھا جاتا ہے۔ اکثر ان کا استعمال اسلامی عقائد یا اعمال کے بعض پہلوؤں کی وضاحت کے لیے کیا جاتا ہے اور مسلمان ان کا بہت احترام کرتے ہیں۔

بہت سی احادیث قدسی ہیں جنہیں مستند تسلیم کیا جاتا ہے اور اسلامی لٹریچر میں کثرت سے نقل کیا جاتا ہے۔ احادیث قدسی کی کچھ مثالیں درج ذیل ہیں:

  • "میں اپنے بندے کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں جیسا وہ میرے بارے میں گمان کرتا ہے۔”
  • "یقیناً اللہ نے ہر چیز میں احسان (کمال) کو لازم قرار دیا ہے۔”
  • "اے میرے بندو، میں نے ظلم کو اپنی ذات پر حرام کر لیا ہے اور اسے تمہارے درمیان بھی حرام قرار دیا ہے، لہذا ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو۔”
  • حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا:
    جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو تخلیق کیا تو اس نے اپنی کتاب میں، جو اس کے پاس موجود ہے، یہ تحریر فرمایا: میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ اسے مسلم (بشمول بخاری، نسائی اور ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے۔ (حدیث 1، 40 احادیث قدسی)

احادیث قدسی مسلمانوں کے لیے ہدایت اور ترغیب کا ذریعہ ہیں اور اسلامی روایت اور عقائد کا ایک اہم حصہ ہیں۔ آخر میں، حدیث قدسی کی بہترین مثالوں میں سے ایک کتاب 40 حدیث قدسی ہے، جسے آپ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

عام احادیث میں الفاظ اور معنی دونوں نبی کریم ﷺ کی طرف سے ہوتے ہیں، جبکہ حدیث قدسی ایسی وحی کو کہا جاتا ہے جس کے الفاظ آپ ﷺ کے ہوتے ہیں لیکن اس کے معنی اور پیغام اللہ تعالیٰ کی طرف سے براہ راست نازل کیے جاتے ہیں، جو اسے ایک خاص مقام دیتا ہے۔
اسلامی لٹریچر میں حدیث قدسی کو خصوصی فضیلت حاصل ہے کیونکہ اسے الہامی پیغام مانا جاتا ہے۔ اسے اسلامی عقائد کی وضاحت، اخلاقی بہتری اور اللہ کی صفات کو سمجھنے کے لیے مستند ذریعے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور تمام مسلمان ان کا مکمل احترام کرتے ہوئے ان سے رہنمائی لیتے ہیں۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ایک مشہور حدیث قدسی کے مطابق، جب اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اپنی کتاب میں یہ تحریر فرمایا کہ میری رحمت میرے غضب پر غالب ہے۔ یہ حدیث بخاری اور مسلم سمیت متعدد کتب میں موجود ہے اور اللہ کی بخشش کی انتہا ظاہر کرتی ہے۔
حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں جیسا وہ میرے بارے میں گمان کرتا ہے۔ یہ اہم سبق دیتا ہے کہ انسان کو ہمیشہ اللہ سے اچھی امید رکھنی چاہیے، کیونکہ یقین اور مثبت سوچ ہی اللہ کی رحمت اور مدد کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔

فوری عطیہ