مضامین

خمسی سال، خمس حساب کرنے کے لیے معین کیا ہوا سال ہے کہ جس کا آغاز پہلی آمدنی ملتے ہی شروع ہوتا ہے۔

نامگذاری

شیعہ فقہ کے مطابق پہلی آمدنی کے ملنے کے ایک سال بعد اس آمدنی سے بچت سے پانچواں حصہ کو خمس کے طور پر دینا واجب ہے۔اس ایک سال کی مدت کو خمسی سال کہا جاتا ہے۔ خمسی سال یا السنۃ الخمسیۃ، قدیمی فقہی منابع اور اسی طرح جواہر الکلام، عروۃ الوثقی اور تحریر الوسیلہ جیسی کتابوں میں نہیں ملتی ہے۔ اور یہ اصطلاح چودھویں صدی شمسی کے دوسرے حصے میں شیعہ فقہی کتابیں خاص کر توضیح المسائل اور استفتائات میں آئی ہے۔

بعض اہم احکام

خمسی سال کا آغاز

شیعہ فقہا کی نظر میں خمسی سال کا آغاز مکلفین کی نسبت اور ان کی درآمد کے تحت مختلف ہے۔ جن لوگوں کی روزانہ آمدنی ہوتی ہے جیسے دکاندار اور تاجر، تو ان کا خمسی سال کا آغاز کام شروع کرنے کے دن سے ہوتا ہے۔ اور جن کی ماہانہ آمدنی ہوتی ہے تو پہلی تنخواہ لینا ہی خمسی سال کا آغاز شمار ہوتا ہے اور کسانوں کا خمسی سال پیداوار کو پہلی بار حاصل کرنے سے آغاز ہوتا ہے۔ اور بعد کے سالوں میں وہی دن خمس حساب کرنے کے لیے معین ہوتا ہے۔

قمری یا عیسوی سال

  • اکثر شیعہ فقہا خمس حساب کرنے کے لئے قمری یا عیسوی سال میں فرق کے قائل نہیں ہیں۔ اور دونوں میں سے جس کے تحت بھی خمس دیں جائز سمجھتے ہیں؛البتہ بعض نے احتیاط واجب کی بنا پر قمری سال کو مبنا قرار دیا ہے۔

دیگر احکام

  • خمسی سال، خمس واجب ہونے کے موارد میں سے سال کی آمدنی سے جو بچ جاتا ہے اس سے مربوط ہے۔ لیکن دوسرے موارد جیسے مال غنیمت اور معدن وغیرہ میں لحاظ نہیں کیا جاتا ہے۔
  • خمسی سال کی انتہا پر مکلف کو چاہیے کہ اپنی بچث ( نقد ہو یا غیر نقد و خوراکی چیزیں) کا پانچواں حصہ ادا کرے۔
  • اکثر شیعہ فقہا نے خمسی سال تبدیل کرنے کو جائز سمجھتے ہیں۔البتہ بعض نے سال کو آگے پیچھے کرنے کو حاکم شرعی کی اجازت پر موقوف ہے۔اور بعض نے جس پر خمس واجب ہوا ہے اس کے متضرر نہ ہونے پر مشروط کیا ہے۔
مذہب

خُمس اَرباح مَکاسب سے مراد کاروبار اور دیگر طریقوں سے حاصل ہونے والے منافع اور آمدنی کا خمس ہے۔ شیعہ فقہا کے نزدیک سالانہ آمدنی اور منافع پر خمس ہے لیکن اہل سنت معتقد ہیں کہ ارباح مکاسب پر خمس نہیں ہے۔

معنا

ارباح مَکاسب سے مراد کاروبار سے حاصل ہونے والا منافع ہے۔ شیعہ فقہ کے مطابق سالانہ آمدنی سے سال کے اخراجات کم کرنے کے بعد اس کا پانچواں حصہ خمس کے طور پر دینا واجب ہے۔

شیعہ فقہا، «ارباح مکاسب» میں، تجارت، زراعت، صنعت، تصنیف و تالیف، ٹیلری، مال کو کرائے پر دینے یا دوسرے کسی بھی کاروبار سے حاصل ہونے والی آمدنی اور منافع کو شامل کرتے ہیں۔ لیکن کیا حق مہر، انعام، ہدیہ اور ارث بھی ارباح مکاسب میں سے ہیں یا نہیں؟ اس میں اختلاف نظر ہے۔

نظریات

اہل سنت فقہا کے نزدیک ارباح مکاسب پر خمس نہیں ہے۔لیکن شیعہ خمس کے قائل ہیں۔ شیعہ فقہا اہل بیتؑ کی روایات اور اسی طرح آیہ خمس سے استناد کرتے ہوئےکہتے ہیں کہ اس آیت میں غنیمت ایک وسیع معنی میں استعمال ہوا ہے جو ہر قسم کے منافع اور آمدنی کو شامل ہے۔ تاریخی مصادر میں پیغمبر اکرمؐ اور امام علیؑ کے دور میں سالانہ آمدنی پر خمس دینے کی کوئی گزارش موجود نہیں ہے۔ شیعوں کا عقیدہ ہے کہ ارباح مکاسب پر شروع ہی سے خمس واجب تھا لیکن مسلمان فقیر ہونے کی وجہ سے عملی طور پر خمس دینے کو تاخیر کردیا ہے۔اسی طرح ان کا کہنا ہے کہ اگر بنی ہاشم کے فقیر ارباح مکاسب کے خمس سے محروم رہیں تو چونکہ زکات غیر بنی ہاشم کے ساتھ مخصوص ہے اس لئے ان کی زندگی کی مشکلات حل کرنے کے لئے کوئی راستہ نہیں رہے گا۔

خمس دینے کا وقت

فقہا کے نزدیک خمسی سال کے آغاز سے ایک سال گزر جائے تو ارباح مکاسب کا خمس دینا ہوگا۔ خمسی سال کا آغاز ہر شخص کی پہلی آمدنی، پہلے مال کے ملنے یا کام کے آغاز کے دن سے شروع ہوتا ہے۔ سالانہ منافع کا خمس حساب کرنے کا طریقہ توضیح المسائل میں ذکر ہوا ہے۔

مذہب

فِطرہ یا فطرانہ جسے زکات فطرہ بھی کہا جاتا ہے، اسلام کے واجب احکام میں سے ایک ہے جس کے معنی عید فطر کے دن مخصوص مقدار اور کیفیت میں مال ادا کرنے کے ہیں۔ فطرہ کی مقدار ہر شخص کے لئے سال کے غالب خوراک میں سے ایک صاع (تقریبا 3 کیلوگرام) گندم، جو، کھجور یا کشمش یا ان کی قیمت ہے۔

ہر بالغ اور عاقل شخص جو اپنے اور اپنے اہل و عیال کے سال بھر کا خرچہ رکھتا ہو، پر اپنے اور اپنے اہل عیال کا فطرہ ادا کرنا واجب ہے۔ فطرہ کی ادائیگی کا وقت نماز عید فطر یا اسی دن ظہر کی نماز سے پہلے تک ہے۔ فطرہ کا مصرف اکثر فقہاء کے نزدیک زکات کے مصرف کی طرح ہے۔ احادیث کے مطابق فطرہ روزے کی تکمیل اور قبولیت نیز اسی سال انسان کی موت سے نجات اور زکات مال کی تکمیل کا باعث ہے۔

لغوی معنی

فطرہ کے کئی معنی ہیں:

  • خلقت کے معنی میں: یعنی کسی مخلوق کی شکل و صورت جسے خدا نے اسے دی ہو، اس معنی کے اعتبار سے زکات فطرہ سے مراد خلقت کی زکات ہوگی اسی وجہ سے زکات فطرہ کو زکات بدن بھی کہا جاتا ہے کیونکہ زکات فطرہ انسان کے جسم کا مختلف آفتوں اور مصیبتوں سے بچنے کا سبب ہوتا ہے۔
  • اسلام کے معنی میں: اس صورت میں زکات فطرہ سے مراد زکات اسلام ہوگی۔ یہاں اسلام اور زکات فطرہ کے درمیان جو نسبت ہے وہ یہ ہے کہ زکات فطرہ اسلام کے شعائر میں سے ہے۔
  • روزہ کے مقابلے میں افطار کے معنی میں: اس صورت میں زکات فطرہ سے مراد روزہ کھولنے کی زکات ہوگی۔

احادیث کی روشنی میں

  • امام صادقؑ سے اس آیت قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَکیٰ(ترجمہ: وہ شخص فائز المرام ہوا جس نے اپنے آپ کو (بداعتقادی و بدعملی سے) پاک کیا۔) کے بارے میں سوال ہوا تو آپؑ نے فرمایا: "اس سے مراد وہ شخص ہے جس نے فطرہ ادا کی ہو”۔ کہا گیا: پھر وَ ذَکرَ اسْمَ رَ بِّهِ فَصَلَّیٰ(ترجمہ: اور اپنے پروردگار کا نام یاد کیا اور نماز پڑھی۔) سے کیا مراد ہے تو فرمایا: "اس سے مراد وہ شخص ہے جس نے صحرا میں جا کر نماز عید ادا کی۔”
  • امام صادقؑ فرماتے ہیں: روزے کا کمال زکات فطرہ کی ادائیگی میں ہے۔ جس طرح نماز کا کمال پیغمبر اکرمؐ اور آپ کی آل پر صلوات بھیجنے میں ہے۔ کیونکہ جس نے روزہ رکھا لیکن عمدا فطرہ ادا نہ کیا تو گویا اس نے روزہ رکھا ہی نہیں اسی طرح جس نے نماز ادا کی لیکن پیغمبر اکرمؐ اور آپ کی آل پر صلوات بھیجنے کو ترک کیا تو گویا اس نے نماز پڑھی ہی نہیں۔ خداوند متعال نماز سے پہلے زکات ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرماتے ہیں : قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَکیٰ وَ ذَکرَ اسْمَ رَ بِّهِ فَصَلَّیٰ(ترجمہ: وہ شخص فائز المرام ہوا جس نے اپنے آپ کو (بداعتقادی و بدعملی سے) پاک کیا۔ (14) اور اپنے پروردگار کا نام یاد کیا اور نماز پڑھی۔)
  • امام علیؑ فرماتے ہیں: "جو بھی فطرہ ادا کرتا ہے خداوند عالم اس کے ذریعے اس کے مال میں سے زکات کی کمی رہ گئی ہے اسے پورا کرتا ہے۔
  • امام صادقؑ نے فرمایا: جس نے بھی اپنا روزہ کسی اچھی بات یا اچھے کام سے اختتام کو پہنچایا، خدا اس کا روزہ قبول کرتا ہے۔ لوگوں نے سوال کیا فرزند رسولؐ، اچھی بات سے کیا مراد ہے؟ تو آپ نے فرمایا: اس بات کی گواہی دینا کہ خدا کے سوائے کوئی معبود نہیں ہے اور اچھے کام سے مراد فطرہ کی ادائیگی ہے۔”
  • امام صادقؑ نے اپنے وکیل متعب سے فرمایا: "جاؤ جن جن کے اخراجات ہمارے ذمہ ہے ان سب کا فطرہ ادا کرو اور کسی ایک کو بھی نہ چھوڑو۔ کیونکہ اگر کسی کو چھوڑا یا فراموش کیا تو مجھے ڈر ہے کہ وہ فوت ہو جائے” معتب نے سوال کیا: فوت سے کیا مراد ہے؟ (عربی میں فوت کا ایک معنی مفقود ہونا بھی ہے شاید راوی نے اس لئے یہ سوال کیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ فوت سے مراد کیا ہے) تو امام نے فرمایا: "موت”۔

حکم

زکات فطرہ ایک واجب عبادت ہے اس لئے اس کی ادائیگی میں قصد قربت شرط ہے۔

واجب ہونے کی شرائط

  1. بلوغ اور عقل: پس زکات فطرہ (نابالغ اور دیوانہ) سے ساقط ہے۔
  2. ہوش میں ہو: جو شخص ماہ رمضان کی آخری تاریخ کو بے ہوشی کی حالت میں ہو تو اس پر زکات فطرہ واجب نہیں ہے۔
  3. بی‌نیازی: فقیر پر زکات فطرہ واجب ہے۔ مشہور قول کی بنا پر فقیر سے مراد وہ شخص ہے جس کے پاس ابھی یا مستقبل میں اپنی اور اپنے اہل و عیال کے سال بھر کا خرچہ نہ ہو۔ یعنی ابھی کو مال موجود بھی نہیں ہے یا کوئی ایسا شغل بھی نہیں ہے جس سے وہ اپنا خرچہ پورا کر سکے۔ گذشتہ بعض فقہاء نے فرمایا ہے کہ: فقیر وہ شخص ہے جو زکات کے کسی ایک نصاب یا اس کی قیمت کا مالک نہ ہو۔ بعض فقہاء سے منقول ہے کہ جس شخص کے پاس فقط ایک دن اور رات کا خرچہ ہو تو اس پر بھی زکات واجب ہے۔ البتہ فقیر پر بھی فطرہ کے مستحب ہونے میں کوئی شک نہیں ہے اور کم از کم یہ کہ ایک صاع(تقریبا تین کلو گرام) گندم یا دوسری اشیاء جو وہ فطرہ کے طور پر دینا چاہتا ہے، کو اپنے اہل خانہ کے ایک فرد کے ہاتھ میں دے اور وہ دوسرے کو اسی طرح پورا اہل خانہ آخر میں اسے فطرہ کے عنوان سے اپنے اہل خانہ کے علاوہ کسی اور فقیر کو دے دے۔
  • اس بات میں فقہاء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے کہ زکات فطرہ واجب ہونے کیلئے علاوہ بر مخارج سال خود فطرہ کا بھی مالک ہونا شرط ہے یا نہیں؟۔ اس صورت میں اگر اسے بھی شرط قرار دے تو جس کے پاس پورے ایک سال کے خرچے کی علاوہ فطرہ کی مقدار کا بھی مالک نہ ہو تو یعنی سال کے اخراجات کے علاوہ کچھ نہ ہو تو اس پر زکات فطرہ واجب نہیں ہے۔
  • تعض فقہاء غنی بالفعل اور غنی بالقوھ یعنی ابھی اخراجات اس کے پاس ہونے اور کسی شغل کے ذریعے رفتہ رفتہ اخراجات کے حاصل ہونے میں فرق کے قائل ہوئے ہیں اس وقت دوسری صورت میں یہ شرط رکھی ہے کہ سال کے اخراجات سے ہٹ کر زکات فطرہ کا بھی مالک ہو۔
  • فطرہ واجب ہونے کے لئے عید کی رات مغرب تک شرائط کا موجود ہونا ضروری ہے۔ بنابراین اگر کوئی عید کی رات مغرب سے پہلے تک تو شرائط رکھتا ہو لیکن مغرب کے دوران اس میں شرائط مفقود ہو جائے تو اس پر فطرہ واجب نہیں ہے۔ ہاں اگر عید کی رات مغرب سے عید کی صبح نماز عید تک شرائط محقق ہو جائے مثلا اس دوران کوئی نابالغ، بالغ ہو جائے تو اس پر فطرہ ادا کرنا مستحب ہے واجب نہیں ہے۔
  • بعض معاصرین کہتے ہیں: اگر عید کی رات مغرب سے عید کے صبح نماز عید تک شرائط متحقق ہو جائے تو فطرہ بنابر احتیاط واجب ہے۔ بعض دیگر کہتے ہیں: عید کی رات مغرب کے وقت شرائط کا موجود ہونا کافی ہے اس سے پہلے شرائط کا موجود ہونا ضروری نہیں ہے.

وہ افراد جن پر فطرہ واجب ہے

جو بھی عید الفطر کی رات غروب کے وقت کسی شخص کے ہاں کھانے والے سمجھے جائیں ضروری ہے کہ وہ شخص ان کا فطرہ دے، قطع نظر اس سے کہ وہ چھوٹے ہوں یا بڑے مسلمان ہوں یا کافر اگر اس شخص میں فطرہ کے واجب ہونے کے شرائط ہوں میں اس پر ان سب کا فطرہ واجب ہے۔

آیا بیوی کا فطرہ اس کے شوہر پر اسی طرح غلام کا فطرہ اس کے آقا پر ہر صورت میں واجب ہے اگرچہ یہ اس کے عیال میں شامل نہ ہوتے ہوں؟ یا صرف اس صورت میں واجب ہے کہ یہ ان کے عیال میں شامل ہوتا ہو؟ یا ان کا نفقہ ان پر واجب ہونے کی صورت میں واجب ہے؟ فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ البتہ اختلاف صرف اس صورت میں ہے کہ زوجہ اور غلام کسی اور کا عیال شمار نہ ہوتے ہوں ورنہ اگر یہ دونوں کسی اور کے عیال میں شمار ہوتے ہوں تو شوہر اور مالک سے ان کا فطرہ ساقط ہونے میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔

جس شخص کا فطرہ کسی اور پر واجب ہے خود اس کے اوپر اس کا فطرہ واجب نہیں اگرچہ وہ اسکا فطرہ ادا نہ بھی کرے . لیکن اس صورت میں کہ معیل(وہ شخص جو گھر کا ذمہ دارہے) فقیر ہو جبکہ عیال غنی ہو تو اس صورت میں عیال کے اوپر اپنی طرف سے اپنا فطرہ ادا کرنا واجب ہے یا نہیں؟ علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔

مہمان کا فطرہ

مہمان کا فطرہ میزبان پر واجب ہے۔ اگرچہ اس مسئلے میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے کہ آیا عید کی رات ایک دفعہ افطاری کھانے سے مہمان کا فطرہ میزبان پر واجب ہوتا ہے یا نہیں؟ بعض اس بات کے معتقد ہیں کہ مہمان کا فطرہ میزبان پر واجب ہونے کیلئے مہمان کا عنوان صدق آنا کافی ہے اگرچہ افطار سے ایک لمحہ پہلے ہی کیوں نہ ہو۔ لیکن بقیہ حضرات معتقد ہیں کہ صرف اس مہمان کا فطرہ میزبان پر واجب ہے جسے عرف میں میزبان کا عیال اور کھانے والا شمار کیا جاتا ہو۔ اس مسئلے میں دیگر اقوال بھی ہیں منجملہ: پورے ماہ رمضان میں مہمان رہنے کی شرط؛دوسرے نصف میں مہمان رہنا؛ آخری عشرے میں مہمان رہنا یا آخری دو راتوں میں مہمان رہنا وغیرہ۔

جنس اور مقدار

زکات فطرہ کے جنس کے بارے میں فقہاء کے کلمات مختلف ہیں۔ بعض فقط گندم، جو، خرما اور کشمش کو ذکر کرتے ہیں۔ جبکہ دوسرے حضرات مذکورہ اشیاء کے علاوہ مکئی اور خشک دھی کو بھی ذکر کرتے ہیں۔ ایک تیسرا گروہ مذکورہ اشیاء پر دودھ کو جبکہ چوتھا گروہ چاول کو بھی اضافہ کرتے ہیں۔

متاخرین میں سے مشہور علماء زکات فطرہ کی جنس کو عرف عام میں غالبا اور اکثرا استعمال ہونے والی چیز کو قرار دیتے ہیں۔

زکات فطره میں مذکورہ اشیاء کی قیمت کی ادائیگی بھی کافی ہے۔

زکات فطرہ کی مقدار ہر شخص کے مقابلے میں دودھ کے علاوہ باقی اشیاء میں ایک صاع (تقریبا 3 کیلوگرام) ہے۔ جبکہ دودھ میں اس کی مقدار کو بعض نے چار رطل ذکر کیا ہے اگرچہ مشہور دودھ میں بھی باقی اشیاء کی طرح ایک صاع ذکر کرتے ہیں۔ قول اول کی بنا پر رطل سے مراد "رطل عراقی” ہے یا "رطل مدنی” علماء کے درمیان اختلاف ہے۔ زکوۃ الفطر کی ادائیگی کے لیے کلک کریں۔

زمان وجوب

  • متأخرین میں سے مشہور کا قول ہے کہ زکات فطرہ ماہ رمضان کی آخری تاریخ کو مغرب کے وقت واجب ہوتی ہے۔ بعض نے فطرہ کے وجوب کے وقت کو عید کے دن فجر تک ذکر کیا ہے۔ فطرہ کی ادائیگی کے آخری وقت کے بارے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے بعض اسے نماز عید کی ادائیگی کے وقت جبکہ بعض عید کے دن زوال اور بعض اسے اسی روز مغرب تک ذکر کرتے ہیں.
  • ماہ رمضان میں چاند رات سے پہلے فطرہ کی ادائیگی کے جواز میں بھی علماء کا اختلاف ہے۔ جائز ہونے کی صورت میں ماہ رمضان کی پہلی تاریخ سے ہی جائز ہو گی۔
  • اگر کوئی شخص مقرره مدت میں فطرہ ادا نہ کرے تو اس صورت میں اگر قصد قربت کے ساتھ اپنے مال سے اسے الگ کر کے رکھا ہو تو اسی کو فطرہ کے طور پر ادا کرنا واجب ہے لیکن اگر اس نے الگ نہ کیا ہو تو آیا زکات اس کے گردن سے ساقط ہو گی یا نہیں اور اگر اس سے ساقط نہ ہونے کی صورت میں فطرہ کو ادا کی نیت سے ادا کرنا چاہئے یا قضا کی نیت سے مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔
  • اگر فطرہ کو اپنے مال سے الگ رکھا ہو اور ادائیگی کی امکان کے باوجود ادا نہ کی گئی ہو تو شخص اس کا ضامن ہے۔

مصرف

  • فقہاء کے درمیان مشہور قول کی بنا پر زکات فطرہ کا مصرف وہی زکات مال کا مصرف ہے۔
  • بعض قدماء کے کلام سے ظاہر ہوتا ہے کہ زکات فطرہ فقط فقراء کے ساتھ مختص ہے۔ بعض معاصرین بھی زکات فطرہ کو فقط فقیروں کے ساتھ مختص ہونے کو احتیاط مستحب قرار دیتے ہیں۔
  • فقہاء کے ایک گروہ کے مطابق مؤمن(شیعہ) فقیر نہ ہونے کی صورت میس فطرہ سنی مستحق کو دینا جائز ہے۔
  • مالک فطرہ کو براہ راست مستحق کو ادا کر سکتا ہے اگرچہ امام یا نائب امام کو دینا افضل ہے۔
  • قول مشہور کی بنا پر کسی پ فقیر کو ایک صاع سے کم مقدار میں زکات کے عنوان سے دینا جائز نہیں ہے مگر یہ کہ فقراء بہت زیادہ ہوں اور سب کو ایک ایک صاع دینا ممکن نہ ہو اس صورت میں بعض فقہاء اس بات کے قائل ہیں کہ ایک فقیر کو ایک صاع سے کم بھی ادا کی جا سکتی ہے۔ لیکن ایک صاع سے زیادہ دینا یہاں تک کہ اس کا فقر دور ہو جائے جائز ہے۔
  • مستحب ہے پہلے اپنے رشتہ دار فقراء کو فطرہ دی جائے پھر ہمسایوں میں سے جو فقیر ہوں انہیں دیا جائے اسی طرح اہل علم فقراء کو دوسروں پر ترجیح دینا بھی مستحب ہے۔
  • سید غیر سید سے زکات مال اور فطرہ نہیں لے سکتا لیکن خمس اور دوسری وجوہات اگر اس کی زندگی کے اخراجات پورا نہ کرسکے اور زکات لینے پر محبور ہو تو غیر سید کا فطرہ بھی لے سکتا ہے۔
مذہب

صدقہ کیا ہے؟ (تعریف)

صدقہ (عربی: الصَدَقَة) اسلام میں ایک رضاکارانہ خیراتی عمل ہے جو صرف اللہ کی رضا کے لیے کیا جاتا ہے۔ زکوٰۃ کے برعکس، جو کہ ایک واجب سالانہ ٹیکس ہے، صدقہ کے لیے مال کی کوئی مقررہ رقم شرط نہیں ہے اور یہ کسی بھی وقت کسی بھی ضرورت مند کو دیا جا سکتا ہے۔ یہ ایک روحانی ذریعہ ہے جو مال کو پاک کرنے، گناہوں کو مٹانے اور خالق کا شکر ادا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

الٰہی معیشت: آپ کے مال کا تعارف کیوں اہم ہے

ہم تضادات سے بھری دنیا میں رہتے ہیں۔ جہاں ہم میں سے کچھ اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ اپنے اضافی مال کو کہاں سرمایہ کاری کریں، وہیں لاکھوں بھائی بہن بھوک کو اپنا واحد ساتھی بنا کر سو جاتے ہیں۔ یہ ایک تکلیف دہ حقیقت ہے جو ہر مومن کے ضمیر کو جھنجھوڑتی ہے۔

تاہم، اسلام ایک گہرا حل پیش کرتا ہے جو مال کو محض ایک قبضے سے بدل کر ایک روحانی سواری بنا دیتا ہے: صدقہ۔

یہ صرف پیسہ دینے کے بارے میں نہیں ہے؛ یہ آپ کی روح کو عارضی چیزوں کے لگاؤ سے آزاد کرنے کے بارے میں ہے۔ جب آپ دیتے ہیں، تو آپ دولت کھو نہیں رہے ہوتے؛ بلکہ آپ اسے ایک عارضی بینک اکاؤنٹ سے ایک ابدی اکاؤنٹ میں منتقل کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ گائیڈ صدقہ کی گہرائیوں کا جائزہ لیتی ہے اور یہ بتاتی ہے کہ کس طرح جدید ٹیکنالوجی، جیسے کہ کرپٹو کرنسی، آپ کو اس قدیم روایت پر بے مثال رفتار اور شفافیت کے ساتھ عمل کرنے کی اجازت دیتی ہے۔

صدقہ کو سمجھنا: خالق کے ساتھ ایک سودا

اپنی اصل میں صدقہ "تصدق” (دینے) کا عمل ہے، لیکن اس کا وصول کرنے والا صرف وہ شخص نہیں ہے جو ہاتھ پھیلاتا ہے۔ قرآن سورۃ التوبہ (9)، آیت 104 میں ایک عظیم سچائی کی وضاحت کرتا ہے:

أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ وَأَنَّ اللَّـهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ

"کیا وہ نہیں جانتے کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے اور وہی صدقات وصول فرماتا ہے…”

یہ آیت دینے کے پورے تناظر کو بدل دیتی ہے۔ جیسا کہ امام سجاد نے فرمایا، "خیرات ضرورت مند کے ہاتھ میں جانے سے پہلے خدا کے ہاتھ میں جاتی ہے۔” جب آپ عطیہ دیتے ہیں، تو آپ براہ راست خالق کے ساتھ معاملہ کر رہے ہوتے ہیں۔ غریب تو صرف وہ وسیلہ ہیں جو آپ کو اس روحانی قربت کے حصول میں مدد دیتے ہیں۔

صدقہ بمقابلہ زکوٰۃ: اہم فرق

بہت سے ہمدرد عطیہ دہندگان صدقہ اور زکوٰۃ میں الجھ جاتے ہیں۔ اگرچہ دونوں انفاق (اللہ کی راہ میں خرچ کرنا) کی شکلیں ہیں، لیکن ان کے قواعد میں نمایاں فرق ہے۔

  • زکوٰۃ (واجب): یہ اسلام کے پانچ ستونوں میں سے ایک ہے۔ یہ اس مال پر 2.5% لازمی کٹوتی ہے جو نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر ایک قمری سال گزر چکا ہو۔ اس کے مخصوص مصارف اور حساب کتاب کے سخت قواعد ہیں۔
  • صدقہ (نفلی): یہ مکمل طور پر اختیاری اور لامحدود ہے۔ آپ 1 ڈالر دیں یا 1 ملین ڈالر۔ آپ اسے کسی رشتہ دار، اجنبی یا عام مقصد کے لیے دے سکتے ہیں۔ یہ خدا سے محبت کا ایک لچکدار اظہار ہے۔
  • دیگر اقسام: اس میں خمس (کچھ فقہی مکاتب فکر میں آمدنی کا پانچواں حصہ) اور فطرہ (عید الفطر کی نماز سے پہلے دیا جانے والا صدقہ) بھی شامل ہیں۔

خیرات کے 8 مستحقین

اگرچہ صدقہ لچکدار ہے، لیکن قرآن (زکوٰۃ کے حوالے سے) امداد کے مستحق لوگوں کی آٹھ اقسام بیان کرتا ہے۔ یہ زمرے آپ کے نفلی صدقہ کو وہاں پہنچانے کے لیے "گولڈ اسٹینڈرڈ” (بہترین معیار) کا کام کرتے ہیں جہاں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے:

  1. فقراء (غریب): وہ لوگ جن کی بالکل کوئی آمدنی یا اثاثہ نہیں ہے۔
  2. مساکین (محتاج): وہ جن کے پاس کچھ آمدنی تو ہے لیکن وہ بنیادی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے کافی نہیں ہے۔
  3. عاملین: وہ انتظامی عملہ جو فنڈز کو صحیح لوگوں تک پہنچانے کو یقینی بناتا ہے۔
  4. المؤلفۃ قلوبہم: وہ لوگ جن کے دلوں کی تالیفِ قلب مقصود ہو (نو مسلم یا حلیف)۔
  5. غلامی سے آزادی: قید یا قرض کے بوجھ تلے دبے لوگوں کو آزاد کرنا۔
  6. غارمین (قرض دار): وہ افراد جو صحیح قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہوں اور ادا کرنے سے قاصر ہوں۔
  7. فی سبیل اللہ: ان منصوبوں کے لیے فنڈز جو اسلامی اقدار کے دفاع یا فروغ کے لیے ہوں۔
  8. ابن السبیل (مسافر): وہ مسافر جو وسائل نہ ہونے کی وجہ سے گھر واپس جانے سے قاصر ہوں۔

جدید فلاح و بہبود: کرپٹو کے ذریعے صدقہ کیوں دیں؟

اسلام کے سنہری دور میں خیرات سونے کے دینار کی صورت میں دی جاتی تھی۔ آج ہمارے پاس ایک ایسا آلہ ہے جو امانت (ٹرسٹ) اور کارکردگی کے اسلامی اصولوں کے ساتھ بالکل ہم آہنگ ہے: بلاک چین ٹیکنالوجی۔

جدید فلاحی لوگ کرپٹو عطیات کی طرف کیوں مائل ہو رہے ہیں؟

  1. مکمل شفافیت (امانت): عطیہ دہندگان کے لیے سب سے بڑی فکر یہ ہوتی ہے کہ "کیا میرا پیسہ واقعی کام آیا؟” بلاک چین کے ساتھ، ہر لین دین ایک عوامی لیجر پر ریکارڈ ہوتا ہے۔ یہ شفافیت کی وہ سطح فراہم کرتا ہے جو اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ آپ کا صدقہ بیوروکریسی میں گم نہ ہو بلکہ قابل تصدیق رہے۔
  2. تیز رفتاری جان بچاتی ہے: روایتی بینکنگ سسٹم بین الاقوامی منتقلی میں کئی دن لگا سکتے ہیں، خاص طور پر ان جنگی علاقوں میں جہاں مدد کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ کرپٹو کرنسی کی منتقلی منٹوں میں ہو جاتی ہے۔ جب کوئی خاندان بھوکا ہو یا کوئی آفت آئے، تو یہ رفتار زندگی اور موت کا فرق ثابت ہو سکتی ہے۔
  3. کم فیس، زیادہ اثر: درمیانی ادارے اور بینک آپ کی خیرات کا ایک حصہ کٹوتی کے طور پر لے لیتے ہیں۔ کرپٹو لین دین میں فیس نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے، یعنی آپ کے عطیہ کا تقریباً 100% حصہ مساکین اور فقراء تک پہنچتا ہے۔
  4. گمنامی اور اخلاص: قرآن "خفیہ صدقہ” (2:271) کی تعریف کرتا ہے تاکہ دینے والے کو تکبر سے اور لینے والے کو شرمندگی سے بچایا جا سکے۔ کرپٹو فرضی ناموں کے ساتھ دینے کی اجازت دیتا ہے جس سے آپ دنیاوی واہ واہ کے بغیر بڑی رقم عطیہ کر سکتے ہیں۔

شفاف طریقے سے دینے کی طاقت کا تجربہ کریں

دینے کے آداب: صدقہ صحیح طریقے سے کیسے ادا کریں

اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کہ آپ کا صدقہ اللہ کے ہاں قبول ہو، کچھ روحانی شرائط کا پورا ہونا ضروری ہے۔ رقم منتقل کرنے کا جسمانی عمل آسان ہے، لیکن دل کی حالت پیچیدہ ہوتی ہے۔

  • ممنوعہ خامیاں
  1. ریاکاری (دکھاوا): اگر آپ صرف سوشل میڈیا پر "لائیکس” یا لوگوں سے تعریف پانے کے لیے دیتے ہیں، تو روحانی اجر ختم ہو جاتا ہے۔
  2. احسان جتانا (من): لینے والے کو اپنے احسان کی یاد دلانا ("یاد ہے جب میں نے تمہاری مدد کی تھی؟”) یا ان کے ساتھ تحقیر آمیز سلوک کرنا عمل کو برباد کر دیتا ہے۔ یہ مومن کی عزت نفس کو ٹھیس پہنچاتا ہے۔
  • پسندیدہ طریقے
  1. خفیہ طور پر دینا: نیت کو آپ کے اور اللہ کے درمیان خالص رکھتا ہے۔
  2. اعلانیہ دینا: یہ اس صورت میں جائز ہے جب مقصد دوسروں کو دینے کی ترغیب دینا ہو، تاکہ ایسی کمیونٹی میں سخاوت کی مثال قائم ہو جسے امید کی ضرورت ہے۔

عظیم روحانی انعامات

نیک لوگ صدقہ دینے میں ایک دوسرے سے سبقت کیوں لے جاتے ہیں؟ کیونکہ اس کا اجر الہی طور پر یقینی ہے۔

  • آفتوں کے خلاف ڈھال: امام باقر علیہ السلام فرماتے ہیں کہ صدقہ دینے والے کو "70 قسم کی آفات” سے بچاتا ہے اور بری موت سے روکتا ہے۔
  • گناہوں کا خاتمہ: جس طرح پانی آگ کو بجھا دیتا ہے، اسی طرح خیرات گناہوں کو ختم کر دیتی ہے۔
  • رحمت کا سایہ: قیامت کے دن، جب کوئی سایہ نہیں ہوگا، مومن اپنے صدقہ کے سائے تلے کھڑا ہوگا۔
  • پل صراط پار کرنا: امام صادق علیہ السلام نے خیرات کو پل صراط جنت کا کٹھن راستہ پار کرنے میں مددگار قرار دیا ہے۔

صدقہ کی بے شمار برکتیں

صدقہ دینے سے وابستہ فضائل اور برکات متعدد احادیث میں نمایاں کی گئی ہیں، جو دنیاوی اور اخروی دونوں انعامات کا وعدہ کرتی ہیں:

  • آفتوں اور بری موت سے تحفظ:

ایک معزز امام، امام باقر علیہ السلام نے فرمایا: "صدقہ انسان کو 70 قسم کی آفات اور بری موت سے بچاتا ہے۔ کیونکہ جو آدمی خیرات دیتا ہے وہ کبھی بری موت نہیں مرتا۔” یہ غیر متوقع مصائب کے خلاف صدقہ کی حفاظتی طاقت کو اجاگر کرتا ہے۔

  • لمبی عمر:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "صدقہ اور صلہ رحمی شہروں کو آباد کرتے ہیں اور لمبی عمر لاتے ہیں۔” یہ صحت مند معاشروں کی تشکیل اور زندگی کی طوالت میں صدقہ کے کردار پر زور دیتا ہے۔

  • جسمانی شفاء:

حدیث کے مطابق، یہ سفارش کی گئی ہے کہ "اپنے بیمار رشتہ داروں کا علاج صدقہ دے کر کرو۔” ایک اور روایت میں خاص طور پر یہ مشورہ دیا گیا ہے کہ بیمار شخص کو اپنے ہاتھ سے صدقہ دینا چاہیے، جو اس کی روحانی اور جسمانی شفا کی صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔

  • غربت کا خاتمہ:

امام باقر (ع) کی ایک حدیث کے مطابق، احسان اور صدقہ غریبی کو دور کرتے ہیں۔

کیا میں بٹ کوائن یا ایتھریم جیسی کرپٹو کرنسی کا استعمال کرتے ہوئے صدقہ ادا کر سکتا ہوں؟

جی ہاں، کرپٹو کرنسی کے ذریعے صدقہ دینا جائز اور انتہائی موثر ہے۔ بہت سے اسلامی اسکالرز کرپٹو کو ایک معتبر ڈیجیٹل اثاثہ (مال) تصور کرتے ہیں۔ کرپٹو عطیہ کرنا اکثر روایتی بینکنگ کے مقابلے میں جنگی علاقوں میں تیز تر منتقلی اور کم ٹرانزیکشن فیس کو یقینی بناتا ہے، جس سے آپ کے تعاون کا زیادہ حصہ ضرورت مندوں تک پہنچتا ہے۔

زکوٰۃ اور نفلی صدقہ کے درمیان بنیادی فرق کیا ہے؟

زکوٰۃ ایک واجب مذہبی فریضہ (اہل مال کے لیے 2.5%) ہے جو ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر سالانہ فرض ہے۔ تاہم، صدقہ مہربانی یا مالی عطیہ کا ایک مکمل طور پر رضاکارانہ عمل ہے جس کی کوئی کم از کم رقم نہیں ہے، جو اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے اور اپنے مال کو پاک کرنے کے لیے کسی بھی وقت کیا جا سکتا ہے۔

کیا صدقہ دینے سے میرا مال کم ہو جاتا ہے؟

نہیں، اسلامی تعلیمات کے مطابق صدقہ مال میں کمی نہیں کرتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح طور پر فرمایا کہ صدقہ کبھی مال کو کم نہیں کرتا۔ اس کے بجائے، یہ باقی ماندہ اثاثوں میں "برکت” (اضافہ) لاتا ہے اور آخرت کے لیے ایک روحانی سرمایہ کاری کا کام کرتا ہے۔

آپ کا مال پاک ہونے کا منتظر ہے

صدقہ بوجھ نہیں ہے؛ یہ ایک اعزاز ہے۔ یہ اللہ کی رحمت اور اس کے دکھی بندوں کے درمیان ایک ذریعہ بننے کا موقع ہے۔ چاہے آپ ایک کپ پانی دیں یا ایک بٹ کوائن، اس عمل کی قدر آپ کے اخلاص پر منحصر ہے۔
اس دور میں جہاں ہم مادی قیمت کو سیکنڈوں میں پوری دنیا میں منتقل کر سکتے ہیں، ہمارے پاس اپنے پڑوسیوں کو بھوکا چھوڑنے کا کوئی عذر نہیں ہے۔ اپنی آخرت کی برکتوں کو محفوظ بنانے کے لیے ٹیکنالوجی کی نعمتوں کا استعمال کریں۔

"بہتر وقت” کا انتظار نہ کریں۔ دینے کا بہترین وقت وہ ہے جب خیرات کا خیال آپ کے دل میں آئے۔

اپنے ڈیجیٹل اثاثوں کو ابدی اجر میں بدلیں

مذہب