اسلام کی عظیم خاتون، حضرت خدیجہ (س) کے فضائل
اسلام کی اس عظیم خاتون کا انتقال 65 برس کی عمر میں ہوا، جنہوں نے 25 سال تک نبی کریم حضرت محمد (ص) کا بھرپور ساتھ دیا۔ ان کی وفات ایک بہت بڑا نقصان تھی اور یہ سانحہ حضرت ابوطالب (ع)، جو نبی کریم (ص) کے عظیم اور شفیق سرپرست تھے، کی وفات کے تین دن بعد پیش آیا۔ ان دو اموات نے نبی کریم (ص) کو اتنا غمگین کر دیا کہ آپ (ص) نے اس سال کا نام "عام الحزن” (غم کا سال) رکھا۔ غمزدہ اور اشکبار نبی کریم (ص) نے خدیجہ (س) کے جسد خاکی کو "حجون” نامی مقام پر سپرد خاک کیا۔
گہری بصیرت
وہ گہری بصیرت اور تدبر کی مالک خاتون تھیں۔ ان کی عملی دانشمندی کامل تھی۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہوں نے بہت سے دولت مند تاجروں کے درمیان نبی کریم (ص) کو اپنے شوہر کے طور پر منتخب کیا۔
حضرت خدیجہ (س) نبی کریم (ص) کے چہرہ مبارک میں ایک روشن مستقبل دیکھ سکتی تھیں۔ ان کے اپنے قول کے مطابق، بعثت سے قبل محمد (ص) کے ساتھ شادی کرنے کی وجہ ان سے گہری دلچسپی تھی: "اے میرے چچا زاد بھائی، ہماری قرابت داری، آپ کے وقار، آپ کے قبیلے پر میرے اعتماد، اور آپ کی نیک سیرتی و سچائی کی وجہ سے، میں نے آپ سے شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔”
مذکورہ بالا تبصرہ بخوبی ظاہر کرتا ہے کہ اسلام کی اس عظیم خاتون کا محمد (ص) کی طرف جھکاؤ اور محبت مادی غرض یا خواہشات پر مبنی نہیں تھی؛ بلکہ یہ نبی اسلام کی منفرد شخصیت کو سمجھنے اور گہری بصیرت پر مبنی تھی۔ ایسی بصیرت نہ رکھنے والی قریش کی کچھ خواتین نے حضرت خدیجہ (س) کو طعنہ دیا اور کہا: "اپنی تمام تر دانشمندی اور شان و شوکت کے باوجود، خدیجہ نے ابوطالب کے غریب یتیم سے شادی کر لی۔ کتنی بڑی ذلت ہے!” حضرت خدیجہ (س)، جن کا فیصلہ حکمت پر مبنی تھا، اپنے موقف پر قائم رہیں اور جواب دیا: "اے قریش کی عورتو! میں نے سنا ہے کہ تمہارے شوہر اور تم خود محمد (ص) سے شادی کرنے پر مجھے طعنے دے رہے ہو۔ میں تم سے ایک سوال پوچھتی ہوں۔ کیا تمہارے مردوں میں محمد (ص) جیسا کوئی مرد ہے؟ کیا تم دمشق، مکہ اور اس کے مضافات میں محمد (ص) جیسا نیک کردار، خوش اخلاق اور عظیم شخصیت کا حامل کوئی اور مرد تلاش کر سکتی ہو؟ میں نے ان خوبیوں کی وجہ سے ان سے شادی کی ہے اور میں نے ان میں ان سے بھی عظیم تر چیزیں اور اخلاق دیکھے ہیں۔”
وقت گزرتا گیا، اسلام ترقی کر رہا تھا اور حضرت خدیجہ (س) نے حضرت فاطمہ زہرا (س) جیسی اولاد کو جنم دیا، جو ائمہ معصومین (ع) کی ماں ہیں۔
مستحکم ایمان
اسلام اور پختہ ایمان نے حضرت خدیجہ (س) کے دل کو منور کر دیا، جس کے باعث انہوں نے اسلام کی تاریخ میں پہلی مسلمان خاتون کا اعزاز حاصل کیا۔
امام علی (ع) نے اس قول میں حضرت خدیجہ (س) کے ایمان اور اسلام کی گواہی دی ہے: "اس دن اسلامی عقائد والا کوئی گھر نہیں تھا، سوائے نبی (ص) اور خدیجہ کے گھر کے، اور میں تیسرا شخص تھا۔ میں اس گھر میں وحی اور نبوت کا نور دیکھ سکتا تھا اور نبوت کی مہک محسوس کرتا تھا۔”
حضرت خدیجہ (س) اپنی زندگی کے آخری لمحے تک پختگی کے ساتھ ثابت قدم رہیں۔ انہوں نے اپنی زندگی اور مال اسلام کے لیے وقف کر دیا اور اسلام کے ہادی (ص) کو کبھی تنہا نہیں چھوڑا۔
شادی کے بعد، خدیجہ (س) نے اپنی تمام دولت محمد (ص) کو سونپ دی اور کہا: "میرا گھر آپ کا ہے اور میں آپ کی خادمہ ہوں۔”
حضرت خدیجہ (س) کی جانب سے اپنی دولت عطیہ کرنے کے بعد، ان کے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل کعبہ گئے، زمزم اور مقام ابراہیم کے درمیان کھڑے ہوئے، اور لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "اے عربو! جان لو کہ خدیجہ تمہیں گواہ بننے کے لیے بلا رہی ہیں کہ انہوں نے اپنی تمام دولت، بشمول غلام اور کنیزیں، جائیداد، مویشی، جہیز اور تمام تحائف محمد (ص) کو عطیہ کر دیے ہیں اور محمد (ص) نے ان سب کو قبول کر لیا ہے۔ یہ عطیہ خدیجہ کی محمد (ص) سے والہانہ محبت کی وجہ سے ہے۔ آج، تم اس بات پر گواہ رہو۔”
اور نبی اسلام (ص) نے ان کی ساری دولت اسلام کی پیشرفت اور اس کے مقاصد کے لیے خرچ کر دی۔ اس موضوع پر، آپ (ص) نے فرمایا: "کوئی بھی دولت خدیجہ کی دولت سے زیادہ فائدہ مند ثابت نہیں ہو سکتی تھی۔”
بے مثال صبر
خدیجہ جیسی خاتون، جو دولت میں پلی بڑھی تھیں، یقیناً ناز و نعم کی عادی رہی ہوں گی، لیکن نبی کریم (ص) سے شادی کے بعد وہ تمام مشکلات برداشت کرنے کے لیے تیار تھیں۔ کفار قریش کا دباؤ، رشتہ داروں کے طعنے اور شعب ابی طالب میں معاشی بائیکاٹ نے انہیں بہت پریشان کیا، لیکن انہوں نے عظیم صبر کا مظاہرہ کیا۔ بنت الشفتی کہتی ہیں: "خدیجہ اتنی عمر رسیدہ تھیں کہ ان مشکلات کو آسانی سے برداشت نہ کر سکتیں۔ وہ ایسی خاتون نہ تھیں جنہوں نے زندگی میں مشکل حالات دیکھے ہوں، لیکن انہوں نے محاصرے کے دوران اپنی وفات تک تمام مشکلات کو صبر سے برداشت کیا۔”
تبلیغِ دین کی حامی اور امامت کی شیدائی
اس دنیا میں چار خواتین نے روحانی کمال حاصل کیا ہے اور وہ کائنات کی بہترین خواتین کے طور پر جانی جاتی ہیں: آسیہ، مریم، خدیجہ اور فاطمہ۔ ان سب نے اپنے وقت کے رہنماؤں اور ائمہ (ع) کی حمایت اور اطاعت کی ہے۔ آسیہ نے اپنی وفات تک موسیٰ (ع) کی قیادت اور نبوت کی حمایت کی، مریم نے عیسیٰ مسیح (ع) کی نبوت کے ستونوں کو مضبوط کرنے کے لیے تکالیف اور الزامات برداشت کیے، فاطمہ زہرا (س) نے اپنی شہادت تک امام علی (ع) کی حمایت اور دفاع کیا۔ مزید برآں، حضرت خدیجہ (س) نبوت کی سچی حامیوں میں سے تھیں۔ انہوں نے اپنی تمام زندگی اور مال محمد (ص) کی نبوت کے لیے وقف کر دیا۔ وہ بھی نبوت اور اسلامی قیادت کی عظیم حامی، شیدائی اور ساتھی تھیں۔
امام علی (ع) کی امامت کے حوالے سے، نبی کریم (ص) نے خدیجہ (س) کو بتایا کہ علی (ع) میرے بعد تمہارے آقا، امیر المومنین، اور لوگوں کے روحانی رہنما ہوں گے۔ اس کے بعد آپ (ص) نے اپنا ہاتھ علی (ع) کے سر پر رکھا اور خدیجہ (س) نے اپنا ہاتھ محمد (ص) کے ہاتھ پر رکھا اور نبی (ص) کے بعد اسلامی قیادت سے اپنی وفاداری ثابت کی۔
باہمی الفت و محبت
خدیجہ (س) کی محمد (ص) سے محبت یکطرفہ نہیں تھی۔ یہ دو طرفہ تھی۔ اس حقیقت کا ذکر ابو طالب (ع) نے نکاح کی تقریب میں کیا تھا: "خدیجہ اور محمد ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔”
چنانچہ جس طرح خدیجہ اپنی گہری بصیرت کی بدولت محمد (ص) کی طرف راغب ہوئیں، نبی کریم (ص) نے بھی انہیں اپنی شریک حیات بننے کے لائق پایا۔ وہ ایک بیوہ تھیں اور بتایا جاتا ہے کہ نبی کریم (ص) سے 15 برس بڑی تھیں، لیکن محمد (ص) نے انہیں کسی بھی دوسری خاتون سے زیادہ لائق پایا، ان سے شادی کی اور اپنی پوری زندگی ان کا احترام کیا۔
مترجم: صدر الدین موسوی


